بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکی پائلٹ کی جانب سے آپریشنل نام "Dude 44 Bravo" کی تحت CBS چینل کے پروگرام "60 منٹ" میں پیش کیے گئے دعوے تجزیہ کاروں، ماہرین اور سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے وسیع پیمانے پر ردعمل بنے ہیں اور انہیں اچھی خاصی توجہ حاصل ہوئی ہے۔
تیسری اور آخری قسط:
پروفیسر نے زور دے کہا: امریکہ جنگی ناکامیوں اور اخراجات کو انسانی، ہیرو ازم (heroism) اور جذباتی کہانیوں کے سانچے میں نئے سرے سے بیان کرنے کی کوشش کر رہا ہے؛ یعنی یہ امریکی ناظرین یہ نہ پوچھیں کہ کتنے امریکی طیارے ضائع ہوئے، کارروائی کی لاگت کتنی تھی اور جنگ کے اقتصادی نتائج کیا تھے، بلکہ اسے ایک پائلٹ کی بقا اور نجات کی کہانی سنیں اور سنائیں۔

پائلٹ کی کہانی میں جنگی اخراجات کا باب نہیں ہے
میڈیا کے محقق، رضا محمدی، کا خیال ہے کہ ایک انتہائی مہنگی فوجی کارروائی کو ـ اصل کردار، تجسس، جہاز سے گرنا، بقا، تلاش اور نجات والے ـ افسانے میں بدلنا، وہی چیز ہے جو امریکی ناظرین کے لئے جانا پہچانا عمل ہے، یہ عمل ماضی میں بھی دہرایا گیا ہے اور مؤثر رہا ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں: CBS کے بیانئے میں "Bravo" نہ صرف ایک زخمی افسر ہے، بلکہ ایک کہانی کا ہیرو ہے جو مشکل حالات میں زندہ بچا ہے اور بالآخر امریکی افواج نے اسے بچا لیا ہے۔ لیکن اس ٹیلی ویژن فریم کے دوسری طرف جو نظر نہیں آتا وہ دو MC-130J طیارے ہیں جو تباہ ہوئے، چار MH-6 طیارے جو ضائع ہوئے، تین سے چار بلیک ہاک ہیلی کاپٹر ہیں جنہیں ایرانیوں نے تباہ کیا ہے، A-10 اور MQ-9 طیارے ہیں جو تباہ ہوئے ہیں، اور بالآخر یہ سب ایک پائلٹ کی نجات کی کارروائی کی بہت بھاری قیمت ہی جو امریکہ نے ادا کی ہے لیکن کہانی میں اس کی طرف کوئی اشارہ نہیں ہوتا!

وہ واضح کرتے ہیں کہ امریکہ کے لئے معاملہ اس تصویر کو برقرار رکھنے کا ہے جو امریکی شہری کے ذہن میں جنگ کے نتیجے کے بارے میں موجود ہے۔ جنگ کے اخراجات جتنے زیادہ بڑھیں گے اور اقتصادی و سیاسی دباؤ میں جتنا اضافہ ہوگا، اتنی ہی اس بیانیۂ جنگ کی اہمیت بڑھے گی۔ اس تناظر میں، "60 منٹ" پروگرام کو بیانیہ سازی کی جنگ کی ایک قابل غور مثال قرار دیا جا سکتا ہے؛ ایسی بیانیہ سازی جو ایک مہنگی کارروائی کو "ایک پائلٹ کی بہادرانہ نجات" کے زاویئے سے دوبارہ پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ کہ یہ بیانیہ سازی جنگ کے اخراجات کی حقیقت کو کس حد تک پردوں کے پیچھے چھپا سکتی ہے، یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب سب سے بڑھ کر امریکی رائے عامہ کے ردعمل اور آئندہ مہینوں کے سیاسی رجحان پر منحصر ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: کامران شیرازی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ